ایک چھوٹے سے گاؤں میں حامد نام کا ایک غریب مگر محنتی کسان رہتا تھا۔ اس کے پاس زمین کا ایک چھوٹا سا ٹکڑا تھا جس پر وہ دن رات محنت کرتا اور اپنے گھر والوں کا گزر بسر کرتا تھا۔
حامد ہمیشہ اپنے پاس موجود نعمتوں پر اللہ کا شکر ادا کرتا تھا، لیکن اس کا پڑوسی کریم بہت لالچی انسان تھا۔ وہ ہر وقت زیادہ دولت حاصل کرنے کے خواب دیکھتا رہتا تھا۔
ایک دن حامد کو اپنے کھیت میں کام کرتے ہوئے زمین سے ایک پرانا صندوق ملا۔ صندوق کھولا تو اس میں سونے کے چند سکے موجود تھے۔
حامد بہت خوش ہوا، لیکن اس نے سوچا:
“یہ دولت شاید میری نہیں۔ بہتر ہے میں گاؤں کے بزرگوں سے مشورہ کروں۔”
وہ صندوق لے کر گاؤں کے بزرگ کے پاس گیا۔ بزرگ نے گاؤں والوں سے پوچھ گچھ کی، لیکن کسی نے بھی صندوق کے بارے میں دعویٰ نہیں کیا۔
کچھ دن گزرے تو حامد نے ان سکوں سے اپنی زمین بہتر کی، گھر کی ضروریات پوری کیں اور باقی رقم محفوظ کر لی۔
کریم کو جب اس خزانے کا علم ہوا تو اس کے دل میں لالچ پیدا ہوگیا۔ اس نے سوچا:
“اگر حامد کو ایک صندوق مل سکتا ہے تو مجھے اس سے بھی بڑا خزانہ مل سکتا ہے۔”
اگلی صبح کریم حامد کے کھیت میں پہنچ گیا اور زمین کھودنے لگا۔ وہ سارا دن خزانہ تلاش کرتا رہا، مگر اسے کچھ نہ ملا۔
لالچ میں آ کر اس نے حامد کی فصل بھی خراب کر دی۔ جب حامد کو معلوم ہوا تو اسے بہت دکھ ہوا، لیکن اس نے غصے کے بجائے کریم سے کہا:
“بھائی، دولت کی خواہش بری نہیں، لیکن لالچ انسان سے وہ کام بھی کروا دیتا ہے جس کا بعد میں پچھتاوا ہوتا ہے۔”
کریم کو اپنی غلطی کا احساس ہوا۔ اس نے حامد سے معافی مانگی اور اس کی فصل کو دوبارہ درست کرنے میں مدد کی۔
اس دن کے بعد کریم نے فیصلہ کیا کہ وہ دوسروں کی دولت پر نظر رکھنے کے بجائے اپنی محنت پر بھروسہ کرے گا۔
وقت گزرا اور کریم نے محنت شروع کر دی۔ کچھ سال بعد وہ خود بھی خوشحال ہوگیا، لیکن اب اس کے دل میں لالچ نہیں بلکہ شکر اور قناعت تھی۔
سبق
لالچ انسان کو حاصل نعمتوں سے محروم کر سکتا ہے، جبکہ محنت، صبر اور قناعت انسان کو حقیقی سکون اور کامیابی دیتے ہیں۔
Moral of the Story
Do not let greed control your heart. Be grateful for what you have and work honestly for what you want.